For emergency cases: 0992-402220
Open/Close Menu Pakistan Kidney Center

گزشتہ ہفتے پاکستان ویلفیئر سوسائٹی جدہ کی جانب سے سعودی عرب کے شہر  ریاض میں پاکستانی  سفارتخانہ کے وسیع و عریض اور خوبصورت  ہال میں ایک رنگا   رنگ تقریب کے انعقاد کا  اہتمام کیا گیا ۔  جس میں ریاض اور اس سے ملحقہ علاقوں  سے پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔  پروگرام کے مہمان خصوصی مملکت میں پاکستان کے سفیر عزت مآب  جناب  منظور الحق تھے۔  پروگرام کا با قاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے کیا گیا۔  اسکے بعد نعت رسول مقبول پڑھی گئی ۔

 

پاکستان   ویلفئیر سوسائٹی جدہ  کے سپریم کونسل کےرکن   جناب انجینئر محمد منشا نے  PWS کے مشن، وژن اور اس کی سرگرمیوں اور کامیابیوں کے بارے میں ایک مختصر تعارفی پریزنٹیشن دی۔

 

سامعین کی  تفریح طبع کےلئے شیکسپیئر کے مشہور زمانہ  ڈرامہ  "رومیو اور جولیٹ" اور پنجاب کے  مشہور رومانوی کردار ہیر رانجھا  پر  مشتمل  ایک مشترکہ خاکہ پیش کیا ۔  جس میں  ڈاکٹر ارم قلبانی نے جولیٹ  کا کردار نبھایا جبکہ  احسان عباسی نے رانجھا  کا ۔   اور کیدو کا کردار جناب ندیم نے پیش کیا ۔

 

پاکستان سے تشریف لائے ہوۓ مشہور و معروف مزاحیہ شاعر  جناب انور مسعود نے اردو اور پنجابی  میں کلام سنا کر مداحوں  سے داد تحسین وصول کیا۔   رباعیا ت پیش کرنے  کے دوران وہ اپنی زندگی کے مختلف  دلچسپ واقعات بھی حاضرین محفل کو سنا  کر محظوظ کر تے رہے ۔

 

پاکستان ویلفیئر سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر خلیل الرحمن نے  سوسائٹی کے اغراض و مقاصد  پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوۓ بتایا  کہ  PWS  کی بنیاد  2006  میں جدہ میں رکھی گئی۔   جسکے مختلف   مقا صد میں جدہ میں مقیم  نادار اور کم آمدنی والے پاکستانیوں کو مفت طبی سہولت فراہم  کرنا شامل تھا ۔   اس منصوبے  پر عمل پیرا ہونے کے لئے  پاکستانی قونصل خانے کے احاطے میں ہر پندرہ روز بعد مفت طبی کیمپ لگایا جانے لگا  اور الحمد لللہ    تب سے  اب تک   224 کیمپ منعقد کیے جا چکے ہیں   جن سے تقریبا    16,000 مریض  استفادہ حاصل کر چکے ہیں ۔  اس میڈیکل کیمپ میں مختلف  امراض کے ماہرمرد و خواتین  ڈاکٹرز مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے  ۔    دوائیں  کیمپ کی فارمیسی سے مفت فراہم کی جاتی ہیں۔   دواؤں کے علاوہ مختلف قسم کے  ٹیسٹ بھی  کیے جاتے ہیں مثلا ،  الٹرا ساؤنڈ، آنکھوں  کا چیک اپ ، بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر وغیرہ وغیرہ ۔   یہ تمام ٹیسٹ بلا معاوضہ کیے جاتے ہیں ۔   پاکستان ویلفئیر  سوسایٹی   کی ٹیم    میں  ڈاکٹر حضرات کے علاوہ  ایسے افراد بھی شامل ہیں جو  مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہیں اور  میڈیکل کیمپ میں   ڈاکٹروں کے شانہ بشانہ  مصروف عمل ہو کر  مختلف نوعیت کی خدمات پیش کرتے ہیں ۔

 

پاکستان کڈنی سینٹر (Trust) کے حوالے سے  ڈاکٹر خلیل الرحمان  نے آگاہ کرتے ہوۓ بتایا  کہ پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں کڈنی سینٹر  کا قیام انکی  دیرینہ خواہش تھی جو الله کے فضل و کرم سے   اب  پایہ تکمیل کو  پہنچ  چکی ہے اور عنقریب اسکا باقاعدہ افتتاح ہونے  والا ہے ۔   پاکستان کڈنی سینٹر کا  سنگ بنیاد 2012 میں عظیم پاکستانی سائنسدان جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے رکھا تھا ۔  بنیادی  طور کڈنی سینٹر کے قیام کا  مقصد گردے کے امراض میں مبتلا ایسے غریب و لاچار  لوگوں کا بلا معا و ضہ علاج کرنا  ہے  جو اس مرض پر اٹھنے والے اخراجات کو برداشت کرنے کی سکت  نہیں رکھتے ۔   تالیوں کی زبردست گونج میں ڈاکٹر خلیل نے  بتایا کہ ابتدائی طور پر   اس مرکز میں روزانہ کم از کم 60 مریضوں کا  ڈایا لییسز (Dialyses)  کیا جا سکے گا۔   انہوں نے مزید بتایا کہ ایک موبائل ڈسپنسری کا   بھی بند و بست کیا  جا رہا ہے جو  اس سال اگست میں کام کرنا شروع کردیگی ۔ موبائل ڈسپنسری  کے ذریعہ گردے کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی ابتدائی تشخیص انکے گھر وں پر کی جا سکے گی۔  اگر  مرض  کی نوعیت  پیچیدہ ثابت  ہوئی توایسے مریضوں کے  مکمل علاج کے لئےانھیں   کڈنی سینٹر  میں داخل   کر دیا  جائیگا ۔

 

ڈاکٹر منصور میمن اور انجینئر جلیل الحسن نے بھی  حاضرین سے خطاب کیا ۔

 

پاکستانی سفیر جناب  منظور الحق نے  ڈاکٹر خلیل الرحمن اور انکی ٹیم  کی  خدمت خلق کے کاموں کی تعریف کی خصوصا کڈنی  سینٹر(ٹرسٹ) کےعظیم الشان  منصوبے کو رو بہ عمل لانے میں انکی اور انکے ساتھیوں کی انتھک محنت کو بہت سراہا۔   انہوں نے مزید بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریبا 10 ملین گردے کے مریض ہیں۔   کڈنی سینٹر کا  منصوبہ ایبٹ آباد اور اسکے گرد و نواح میں  موجود  گردے کے مریضوں کے علاج میں  ایک اہم  کردار اداکرے گا۔  اس سلسلے میں سفیر پاکستان  نے بیرون ملک  پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ اس  کار خیر میں بڑھ چڑھ کر  حصہ لیں ۔    اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوۓ انہوں نے  مزید فرمایا  کہ  الحمدللہ پاکستانی قوم  کا شمار  دنیا کے ان معروف ترین  ممالک میں ہوتا ہے جو  سب سے زیادہ صدقہ و خیرات  کے کام کرتے ہیں  اور دل کھول کر اس قسم کے اداروں کو عطیات دیتے ہیں ۔  یہ بات بہت قابل ستائش  ہے کہ  ڈونرز حضرات  کی حمایت اورمکمل  سرپرستی سے پاکستان میں  اس قسم کے  منصوبوں  کوپایا  تکمیل تک  پہنچا یا جا رہا  ہے جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔

 

پروگرام کی  ترتیب اور اسکی کیمپیننگ میں ڈاکٹر منصور میمن اور انکی  بیگم  ڈاکٹر ارم قلبانی نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس  کو کامیاب بنانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا۔  انکی انتھک محنت اور کوششوں  نے  اس پروگرام میں چار چاند لگا دیئے ۔

 

آخر میں سفیر پاکستان جناب  منظور الحق   نے انور مسعود کو ایک  یادگاری  شیلڈ  پیش کی بعد ازان ایک پر تکلف عشائیے کا بھی اہتمام کیاگیا اور اس طرح یہ  خوبصورت شام اپنے اختتمام کو پہنچی ۔

 

**********

[nggallery id=9]

CategoryNews

For emergency cases        1-800-700-6200